لاہور/اسلام آباد (سب نیا مانیٹرینگ ڈیسک) سابق وفاقی وزیر اور اسٹیبلشمنٹ کے قریبی سمجھے جانے والے آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، حکومتی شخصیات اور ان کے خاندانوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بین الاقوامی سطح کے بڑے اسکینڈلز منظرِ عام پر آنے والے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے چاروں وزرائے اعلیٰ کا نام لیے بغیر ان پر سنگین سیاسی و مالی الزامات عائد کیے: پہلا صوبہ: ایک صوبے کی وزیراعلیٰ خود وزیراعظم بننا چاہتی ہیں۔ دوسرا صوبہ: دوسرے صوبے کا وزیراعلیٰ کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر آنے کا خواہش مند ہے۔ تیسرا صوبہ: تیسرے صوبے کا سابق وزیراعلیٰ موجودہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کی جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔ چوتھا صوبہ: ایک ایسا وزیراعلیٰ جو کافی عرصے سے اپنے عہدے پر برقرار ہے، اسے ہٹانے کے لیے بھی ایک اور شخص خود کو متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ان سب کو شاید یہ احساس نہیں ہے کہ ان کی کرپشن کی کہانیاں سامنے آنے والی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان سے متعلق کرپشن اور ذاتی ویڈیوز کے اسکینڈلز ظاہر ہوں گے، اور یہ معاملات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر سامنے آئیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ انتہائی طاقتور لابیوں کا حصہ ہیں، لیکن وقت آنے پر یہ لابیاں بھی انہیں بچا نہیں سکیں گی۔ نیب، ایف آئی اے کی تحقیقات اور اہلخانہ کی گرفت سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں وہ لوگ جو نیب اور ایف آئی اے کے کیسز میں ملوث رہے ہیں، مفرور یا اشتہاری رہے ہیں، یا جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں، وہ اور ان کے خاندان بھی اب تحقیقات کی زد میں آسکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ: “کسی وزیراعلیٰ کی ناک کے نیچے کوئی خاتون راتوں رات ارب پتی بن گئی ہے، جبکہ کسی حکومتی شخصیت کا بیٹا بڑے پیمانے پر کرپشن کر رہا ہے اور اب وہ دوسرے ملک بھی نہیں جا سکتا۔” انہوں نے کہا کہ لوگ اندھے نہیں ہیں، سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ آخر میں سیاسی منظرنامے کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ، “میری نظر میں اگلی سیاسی صورتحال میں یا تو سب ایک ہی کنٹینر پر کھڑے نظر آئیں گے یا پھر سب ایک ہی کنٹینر کے اندر (جیل میں) نظر آئیں گے۔” آٹو سیکٹر میں 125 ارب روپے کے نقصان کا الزام دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا نے وزارتِ صنعت و پیداوار پر آٹو سیکٹر میں 125 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی امپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو گزشتہ سات ماہ کے دوران 125 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس پر پروگرام میں موجود ہارون اختر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ “آپ پہلے کرپشن کا الزام لگا رہے تھے، اور اب اسے ریونیو کا نقصان قرار دے رہے ہیں۔” تجزیہ: حکومتی کارکردگی سے طاقتور مایوس یا کوئی نیا پیغام؟ فیصل واوڈا سے یہ نیا محاذ کس نے کھلوایا؟ تمام سیاسی پارٹیاں اچانک ان کے نشانے پر کیوں ہیں؟ کرپشن کے ثبوت اور فارنزک شدہ ویڈیوز موجود ہونے کے دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سیاسی حلقوں میں پہلے ہی یہ بحث چل رہی تھی کہ جولائی کے بعد موجودہ حکومت کے زوال کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں—خاص طور پر صدر آصف علی زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ کہا جا رہا تھا کہ 28ویں ترمیم کے ذریعے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبوں کا بڑا حصہ واپس مرکز کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم یہ معاملہ آئینی ترمیم کے بغیر کسی دوسرے فارمولے سے حل کیا گیا اور صوبوں نے اپنے حصے سے وفاق کو اتنا فنڈ دے دیا کہ اب کئی صوبے خود مالی طور پر بے بس ہو چکے ہیں۔ کیا فیصل واوڈا آج کے دور کے “شیخ رشید” ہیں؟ فیصل واوڈا کے اشاروں سے واضح ہے کہ ان کا نشانہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کی سیاسی صورتحال تھی، اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ دیکھا جائے تو فیصل واوڈا آج کے دور کے “شیخ رشید” بن چکے ہیں۔ ماضی میں شیخ رشید بھی ایسی ہی ہلاکت خیز پیش گوئیاں کیا کرتے تھے، جن میں سے بیشتر سچی ثابت نہیں ہوتی تھیں۔ یہاں سوال فیصل واوڈا سے بھی ہونا چاہیے کہ یہ فائلیں کس نے تیار کی ہیں اور ان کی معلومات کا اصل ذریعہ کیا ہے؟ فیصل واوڈا کے ان بیانات کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے: پہلا زاویہ: شاید طاقتور حلقے سیاستدانوں کو یہ پیغام دے رہے ہوں کہ ہمارے پاس آپ کی تمام تر سرگرمیوں کا کچا چٹھا موجود ہے۔ دوسرا زاویہ: حکومت کی کارکردگی سے بڑھتی ہوئی مایوسی اور متوقع سیاسی تبدیلیوں کی بحث میں فیصل واوڈا خود کو سیاسی طور پر زندہ اور اہم رکھنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ حتمی طور پر دیکھا جائے تو 70 فیصد امکان یہی ہے کہ فیصل واوڈا صرف سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں، جبکہ 30 فیصد امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ Post navigation سندھ میں بڑا مالیاتی اسکینڈل؟ محکمہ خوراک 58 ارب روپے کا آڈٹ ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام، پی اے سی برہم خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ