کراچی : میٹرک اور انٹر کے نتائج میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری میں ملوث کنٹرولر امتحانات نوکری سے برطرف کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے میرپورخاص بورڈ میں میٹرک اور انٹر کے نتائج میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری اور جعلی سرٹیفکیٹس کے اسکینڈل میں ملوث کنٹرولر امتحانات انور علیم خانزادہ کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے بتایا کہ فروری 2026 میں مکمل ہونے والی انکوائری رپورٹ میں انور علیم خانزادہ کے خلاف ایس ایس سی اور ایچ ایس سی کے نتائج میں ٹمپرنگ کے سنگین الزامات ثابت ہوئے تھے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ مذکورہ افسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے نہ تو جواب دیا اور نہ ہی ذاتی سماعت کے لیے پیش ہوئے، جس کے بعد ای اینڈ ڈی رولز کے تحت انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اسکینڈل کی زد میں آنے والے ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر بھی اثر پڑا ہے، وزیر جامعات نے انکشاف کیا کہ میرپورخاص بورڈ میں 2021 سے 2025 تک کے 1068 میٹرک اور 1471 انٹر کے مارکس شیٹس اور سرٹیفکیٹس کو جعلی ثابت ہونے پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ محمد اسماعیل راہو کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی صرف کنٹرولر تک محدود نہیں رہے گی، اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث دیگر افسران اور ایجنٹس کے خلاف بھی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں اور جلد مزید گرفتاریاں یا برطرفیاں متوقع ہیں۔ Post navigation تعلیمی ادارے کل سے کھولنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ناراض بیوی کو منانے میں ناکامی پر شوہر نے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگالی