تہران : مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، جس کی ایرانی سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے تصدیق کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کریں گے۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے بتایا خطے کی سیکیورٹی اور کشیدگی میں کمی کے لیے یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی ‘روئٹرز’ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملاقات میں سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے، جبکہ ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ بھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے تہران پہنچ رہے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے اس اعلیٰ سطحی دورے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔

ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اجلاس کا بنیادی مقصد علاقائی تعاون اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا کرنے کے بعد ایران اور تینوں ممالک (سعودی عرب، ترکیہ اور قطر) کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر یہ پہلا باقاعدہ رابطہ ہے۔

اسی اثنا میں قطری مصالحت کاروں کا ایک وفد پہلے ہی تہران پہنچ چکا ہے، جو ایرانی حکام کو امریکی صدر ٹرمپ کے مطالبات اور پیغام پہنچائے گا۔

دوسری جانب، نیوز ایجنسی ‘الجزیرہ’ کے مطابق ایران نے ان مذاکرات اور سفارتی تحرک کے بدلے اپنے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی اور ملک پر عائد بحری ناکہ بندی کو ختم کرنے کے مطالبات پر سختی سے زور دیا ہے۔