سینئر صحافی اور ٹی وی اینکر پرسن شھید امتیاز میر کے قتل کیس میں ایک نیا اور افسوسناک موڑ سامنے آیا ہے۔ کیس میں گرفتار مبینہ دھشتگرد قاتل عدالت سے ضمانت پر رھا ہو گئے ہیں، جس کے بعد شھید کے خاندان نے انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف سخت احتجاجی تحریک کا فیصلہ کیا ہے۔

​شھید امتیاز میر کے بھائی ریاض میر اور دیگر ورثا نے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ 16 جون سے کراچی پریس کلب کے سامنے تادمِ مرگ بھوک ھڑتال شروع کر رہے ہیں۔

سندھ حکومت اور پولیس کا مایوس کن رویہ

​مقتول کے بھائی ریاض میر کا کہنا ہے کہ:

​”سندھ حکومت نے اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے شھید کے خاندان کو کوئی بھی قانونی یا اخلاقی مدد فراہم نہیں کی، جس کے باعث مظلوم خاندان خود کو بالکل بے یارومددگار محسوس کر رہا ہے۔”

​انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پولیس کی جانب سے عدالت میں انتہائی کمزور اور ناقص چالان پیش کیا گیا، جس کا براہِ راست فائدہ گرفتار ملزمان کو پہنچا اور وہ آسانی سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چالان میں موجود خامیاں پولیس کی تفتیش اور نیت پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہیں۔

​انصاف کے لیے صحافتی برادری سے اپیل

​ورثا نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چالان پر نظرثانی کی جائے اور کیس کو دوبارہ مضبوط بنیادوں پر چلایا جائے۔ انہوں نے تمام صحافتی تنظیموں، کراچی پریس کلب، اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ 16 جون سے شروع ہونے والی اس بھوک ھڑتال میں مظلوم خاندان کا ساتھ دیں تاکہ شھید امتیاز میر کے لہو سے انصاف ہو سکے۔