سندھ میں خطرناک منشیات “آئس” کا استعمال تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور اب یہ لعنت عام شہریوں کے بعد منتخب نمائندوں کے گھروں تک بھی پہنچنے لگی ہے۔ مختلف سماجی حلقوں اور عوامی سطح پر یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ بعض منتخب نمائندوں کی اولاد بھی مبینہ طور پر منشیات کی لت میں مبتلا ہو چکی ہے۔ سماجی کارکنوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی اس خطرناک نشے کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومتِ سندھ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں آئس اور دیگر منشیات کے کاروبار کے خلاف فوری اور بلاامتیاز آپریشن کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات صرف نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہیں، اس لیے اس ناسور کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ Post navigation شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی! غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی نئی فہرست سامنے آگئی کیا فارمولا دودھ پینے سے بچہ آئن اسٹائن یا سپرمین بن جاتا ہے؟ اشتہارات ٹی وی پر چلانے سے روکنے کی سفارش