کراچی (ویب ڈیسک): سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی (SMIU) میں مبینہ طور پر دہرا معیار عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ذرائع اور ملازمین کے مطابق، ہراسمینٹ کیسز میں ملوث عناصر اور جعلی ڈگریوں والے مبینہ چوروں کو تحفظ فراہم کرنے والی انتظامیہ نے اب حقائق پر مبنی سوالات اٹھانے والوں کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا ہے۔ وائس چانسلر مجیب صحرائی اور ان کے مخصوص گروہ (سموں گینگ) کی جانب سے یونیورسٹی کے حقوق کی بات کرنے والے افسران کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے شوکاز نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔

​انتظامیہ کے اس آمرانہ رویے کی حالیہ کڑی ڈائریکٹوریٹ آف براڈکاسٹنگ اینڈ میڈیا ٹریننگز کے پروگرام مینیجر (بی پی ایس-18) محمد صداقت حسین کو جاری ہونے والا شوکاز نوٹس ہے۔

​کیس کے اہم حقائق: آخر معاملہ ہے کیا؟

​یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے 14 جولائی 2026 کو جاری کیے گئے نوٹس میں درج ذیل الزامات عائد کیے گئے ہیں:

  • ​اجتماعی ای میل کا ‘جرم’: پروگرام مینیجر نے 29 مئی 2026 کو ملازمین کے دیرینہ اور جائز حق یعنی ہاؤس رینٹل سیلنگ (HRC) سے متعلق ایک ای میل تمام ملازمین (All SMIU Employees) اور وائس چانسلر کو ارسال کی تھی۔
  • ​انتظامیہ کا مؤقف: یونیورسٹی کا دعویٰ ہے کہ جائز مطالبات پر مبنی اس ای میل سے “داخلی نظم و ضبط” متاثر ہوا اور یہ معاملہ غیر ضروری طور پر سب کے سامنے آیا۔ نوٹس کے مطابق، ای میل کا انداز سرکاری خط و کتابت کے مروجہ اصولوں کے منافی تھا۔
  • ​پہلا جواب مسترد: اس سے قبل 2 جون 2026 کو بھی وضاحت طلب کی گئی تھی، تاہم ملازم کی جانب سے دیے گئے سچے اور واشگاف جواب کو انتظامیہ نے “غیر تسلی بخش” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
  • ​15 دن کی مہلت: متعلقہ افسر کو 15 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے اور ذاتی سماعت میں پیش ہونے یا نہ ہونے کی وضاحت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • ​یکطرفہ کارروائی کی وارننگ: نوٹس میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر مقررہ وقت میں جواب داخل نہ کیا گیا تو انتظامیہ یکطرفہ تادیبی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔