تہران (14 مئی 2026): فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شامل ہونے کے لیے 5 اعتماد سازی کی شرائط عائد کی ہیں۔ ایرانی حکومت کی جانب سے اب مذاکرات کی اُن 5 شرائط کے بل بورڈز دارالحکومت تہران میں نصب کر دیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق تہران ان شرائط کو واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکرات کے آغاز کے لیے ’’کم از کم ضمانتیں‘‘ قرار دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، خصوصاً لبنان میں، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختارانہ حقوق کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستانی ثالثوں کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی بحیرۂ عرب اور خلیج عمان میں امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تہران کے عدم اعتماد کو مزید بڑھا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ شرائط صرف مذاکرات کی بحالی کے لیے کم از کم اعتماد سازی کے دائرہ کار میں طے کی گئی ہیں، اور تہران کا مؤقف ہے کہ ان پر عملی عمل درآمد کے بغیر نئے مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ فارس نیوز کے مطابق ایران نے یہ پانچ شرائط امریکا کی جانب سے پیش کردہ مبینہ 14 نکاتی تجویز کے جواب میں پیش کیں۔ ایران کا مؤقف تھا کہ امریکی تجویز ’’مکمل طور پر یک طرفہ‘‘ تھی اور اس کا مقصد مذاکرات کے ذریعے وہ اہداف حاصل کرنا تھا جو واشنگٹن جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکا۔ Post navigation میں نے میزائل فائر کیے بغیر ایران کا معاملہ کامیابی سے حل کیا، اوباما کی ٹرمپ پر تنقید سعودی عرب: 8 لاکھ 60 ہزار سے زائد عازمینِ حج ارضِ مقدس پہنچ گئے