انقرہ: ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک ہائی اسکول میں مسلح شخص کی فائرنگ سے کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آور نے بعد ازاں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام نے بتایا کہ 18 سالہ سابق طالب علم نے صوبہ شانلی عرفہ کے علاقے سیورک میں واقع ایک ووکیشنل ہائی اسکول میں شاٹ گن سے اندھا دھند فائرنگ کی۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد اسکول کی عمارت میں چھپ گیا اور بعد میں اسی ہتھیار سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ گورنر حسن شلداک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زخمیوں میں 10 طلبا، 4 اساتذہ، کینٹین کا ایک ملازم اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ بیشتر زخمیوں کو مقامی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے جبکہ 5 شدید زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ تمام طلبا کو واقعے کے بعد اسکول سے نکال لیا گیا جبکہ پولیس کے خصوصی دستے موقع پر پہنچ گئے اور بچوں کو حصار میں لے لیا۔ سابق طالب علم نے اسکول میں فائرنگ کیوں کی، اس کی تاحال وجہ معلوم نہیں ہوسکی، حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ Post navigation آبنائےہرمز بغیر کسی شرط اور کنٹرول یا ٹول ٹیکس کھولا جائے، میکرون لبنان پر اسرائیلی حملے: فرانس کا سخت ردِعمل سامنے آگیا