واشنگٹن (21 مئی 2026): اسرائیلی اخبار ’’اسرائیل ہیوم‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ 2 دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے شدید بحث چھڑ گئی ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینئر حکام کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس کا وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی اور کہا کہ ایران کی حالیہ تجویز میں لچک موجود ہے، جس کی بنیاد پر ابتدائی معاہدے کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ اور وزیر جنگ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت صرف سخت دباؤ کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، مذاکرات سے خاطر خواہ نتائج کی توقع کم ہے۔ اجلاس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شریک تھے، جنھوں نے نائب صدر کے مؤقف کی حمایت کی، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایک اور موقع دینے پر رضا مند ہوئے۔ Post navigation امریکا ایران امن معاہدے کی نئی تجاویز پر نیتن یاہو پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے، ایکسیوس ناروے کی صحافی ہیلی لنگ سوینسن نے مودی سے دنیا کے آزاد ترین میڈیا کا سامنا نہ کرنے پر سوال اٹھا دیا