تہران (10 جون 2026): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے، ایران کی سرحدوں کے قریب موجود غیر ملکی افواج کو خطہ چھوڑنے کی تنبیہ کی ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں ہے بلکہ یہ ایران اور عمان کے درمیان مشترک ہے۔ انھوں نے کہا کہ سمندری حدود ’’بالکل واضح‘‘ ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہماری طاقت ور مسلح افواج ایران کی فضائی حدود، زمینی سرحدوں یا سمندری حدود کی کسی بھی خلاف ورزی پر مسلسل چوکس ہیں۔ Foreign forces in proximity to our territory are at constant risk on account of their own human errors, plain accidents, or potentially being caught in crossfire. To reduce risk, best solution is for them to leave.We prefer language of diplomacy but speak other languages too. pic.twitter.com/5DDgHAscBj— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 9, 2026 عراقچی نے X پر پوسٹ میں کہا ’’ہماری سرزمین کے قریب موجود غیر ملکی افواج کو اپنی ہی انسانی غلطیوں، عام حادثات یا ممکنہ طور پر فریقین کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ جانے کے باعث مسلسل خطرات لاحق رہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’خطرات کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ ہم سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ہم دوسری زبانیں بھی بولنا جانتے ہیں۔‘ عباس عراقچی نے ایک اور ٹویٹ میں یہ بھی کہا کہ شکست کے باوجود امریکا نے ہمارے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا، لیکن طاقت ور ایرانی افواج کسی بھی حملے یا خطرے کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی۔ Post navigation ہو سکتا ہے ایران ڈیل میں کئی ماہ لگ جائیں، جے ڈی وینس امریکی صحافی ڈیوڈ رھوڈ کو یرغمال بنانے والے حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا