ڈیاگو میں 2 نوجوان مسلح حملہ آوروں نے اسلامک سینٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی، اور فائرنگ کرنے لگے، لیکن ایک شخص ان کے اور تباہی کے درمیان دیوار بن کر کھڑا ہو گیا، یہ ہیرو امین عبداللہ تھا جس نے دوسروں کو گولیوں سے بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔

الجزیرہ پر شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق امین عبداللہ افریقی نژاد امریکی ماں کے ہاں مسلمان پیدا ہوا تھا، وہ ایک اچھا امریکی اور اچھا مسلمان تھا، انھیں دو امریکی نوجوانوں کی چلائی گئی گولیوں نے قیمتی زندگی سے محروم کر دیا۔

امین عبداللہ، جو حملہ آوروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے تین افراد میں شامل تھے، سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد میں سکیورٹی گارڈ تھے۔ بعد میں شہر کے پولیس چیف نے انھیں ایک ہیرو قرار دیا، جن کی بہادری نے ممکنہ طور پر بچوں سمیت کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔

رپورٹ میں امین کے دوست کاشف الہدیٰ نے بتایا وہ ہمیشہ دوسروں کی حفاظت کرنے والا انسان تھا اس لیے جب مجھے پتا چلا کہ اس نے دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی ہے تو مجھے اس پر حیرت نہیں ہوئی۔

کاشف نے بتایا ’’ہم ایک ڈینٹل آفس میں ایک ساتھ کام کرتے تھے، میں منیجر تھا لیکن امین عبداللہ اپنے ڈینٹل کام میں زیادہ ماہر نہیں تھا، لیکن ایسے شخص کو نوکری سے نکالنا مشکل ہوتا ہے جو ہمیشہ بڑی گرم جوشی اور مسکراہٹ سے آپ کا استقبال کرے۔ اس لیے وہ کام کرتا رہا۔‘‘

کاشف کے مطابق امین کو وردی والے افراد سے ہمیشہ خاص دل چسپی تھی، جیسے ہی پولیس گاڑیوں کے سائرن کی آواز آتی، وہ فوراً ڈینٹل آفس سے باہر بھاگ جاتا۔ کاشف نے بتایا ’’بعد میں میں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور بایوٹیک کے شعبے میں کیریئر بنانے کے لیے سان ڈیاگو چھوڑ دیا، جب کہ میرے والدین اور بہن بھائی وہیں رہے۔ میں وقتاً فوقتاً واپس آتا رہا، مگر اس دن تک میری امین سے دوبارہ ملاقات نہ ہوئی۔‘‘

کاشف نے بتایا ’’اسے اپنی زندگی کا خواب پورا کرتے دیکھنا میرے لیے خوشی کی بات تھی کہ وہ اب ایک سیکیورٹی افسر بن چکا تھا۔ لیکن وہ مسجد کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ ’’امین‘‘ جس کا مطلب ’قابلِ اعتماد‘ ہے، نے اپنے نام کی طرح زندگی گزار دی اور وہی کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوا جو اسے پسند تھا۔