ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا، اگلے 60 دن میں حتمی فیصلے کا امکان؛ امریکی مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی اور بڑے بریک تھرو کے نتیجے میں ایک اہم معاہدے کے خدوخال سامنے آئے ہیں، جس کے تحت ایران پر عائد کئی سخت پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں۔ اس معاہدے کو خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام کی طرف ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ معاہدے کی اہم ترین شرائط اور تفصیلات درج ذیل ہیں: 1۔ ایرانی تیل کی فروخت اور معاشی پابندیوں کا خاتمہ معاہدے کے تحت ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ میں فروخت پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کر دی جائیں گی، جس سے ایران کو اپنی معیشت کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے کا موقع ملے گا۔ مزید برآں، مستقبل میں ایران پر کوئی نئی پابندی عائد نہ کرنے کی بھی ضمانت دی گئی ہے۔ 2۔ منجمد اثاثوں کی واپسی اور تعمیراتی فنڈز معاہدے کے مطابق: 24 ارب ڈالر کی واپسی: ایران کے مختلف عالمی بینکوں میں منجمد کیے گئے چوبیس ارب ($24) ڈالر فوری طور پر واگزار کر کے ایران کے حوالے کیے جائیں گے۔ 300 ارب ڈالر کا تعمیراتی پیکیج: جنگ اور پابندیوں سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر و ترقی کے لیے ایران کو تین سو ارب ($300) ڈالر کی خطیر رقم ادا کی جائے گی۔ 3۔ نیوکلیئر پروگرام اور 60 دن کا الٹی میٹم ایران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار (ایٹم بم) نہیں بنائے گا۔ تاہم، نیوکلیئر پروگرام کے دیگر تکنیکی معاملات اور اس کے پرامن استعمال کے حوالے سے اگلے ساٹھ (60) دنوں کے اندر دونوں ممالک کے مابین ایک حتمی اور فیصلہ کن معاہدہ طے پا جائے گا۔ 4۔ داخلی معاملات میں عدم مداخلت کا معاہدہ امریکہ نے اس بات کی باقاعدہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ایران کی خودمختاری کا احترام کرے گا اور ایران کے اندرونی و داخلی معاملات میں کسی قسم کی سیاسی یا فوجی مداخلت نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کی رائے: اس معاہدے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی بڑی کمی اور استحکام دیکھنے کو ملے گا۔ عالمی برادری نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ Post navigation بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو میں گالم گلوچ امریکا ایران معاہدہ نیتن یاہو کی ذاتی شکست ہے‘، اسرائیلی تجزیہ کار