امریکی فوج نے حال ہی میں جدید الیکٹرانک وار فیئر سسٹم ہیمر آف دی گاڈز کا تجربہ کیا ہے یہ نیا ہتھیار کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران تنازع کے درمیان امریکی فوج نے حال ہی میں اپنے جدید الیکٹرانک وار فیئر سسٹم ’’ہیمر آف دی گاڈز‘‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ دشمن کو تباہ کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نئے ہتھیار کا نام دیومالائی کردار اسکینڈینیوین یا نارسک دیوتا تھور کے مشہور ہتھوڑے میولنیر (Mjolnir) سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے، کیونکہ میولنیر کو ناقابلِ شکست طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بھی اپنے نام کے مطابق دشمن کو بے دست وپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ ایک قابلِ نقل الیکٹرانک سگنل ڈسٹرپٹر ہے، جو دشمن کے درست نشانے والے ہتھیاروں کے رہنمائی اور نیویگیشن سگنلز میں خلل ڈالتا ہے۔ یہ نظام پوزیشننگ، نیویگیشن اور ٹائمنگ (PNT) سگنلز، بشمول GPS ڈیٹا کو جام کر سکتا ہے، مناسب پی این ٹی معلومات نہ ملنے کی صورت میں میزائلوں اور دیگر گائیڈڈ ہتھیاروں کی درستگی متاثر ہوتی ہے، جس سے ان کے ہدف سے چوکنے یا مشن میں تاخیر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس نظام میں دوست فوجی دستوں کے درمیان مضبوط مواصلاتی رابطہ برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، جس کے باعث شدید الیکٹرانک جیمنگ کے ماحول میں بھی فوجی یونٹس ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی فوج کے مطابق یہ تجربہ جولائی کے وسط میں امریکا کے مغربی ساحل کے قریب سمندر میں Project Convergence Capstone 6 (PC-6) کے تحت کیا گیا۔ یہ اس نظام کے سمندری ورژن کا پہلا باضابطہ تجربہ تھا، جبکہ گزشتہ 2 برس کے دوران اس کے زمینی تجربات بھی کیے جا چکے ہیں۔ Post navigation سعودی عرب میں دلفریب فلکی نظارہ، ہزاروں شہری دیکھنے رات سڑکوں پر نکل آئے مشرق وسطیٰ کے ایک ملک کے شہریوں کا اپنی حکومت کو کھلا خط، مملکت سے امریکی فوج نکالنے کا مطالبہ