تہران (28 مارچ 2026): ایرانی میڈیا نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں واقع یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی و امریکی حملوں کے دوران تہران یونیورسٹی بھی متاثر ہوئی ہے، تاہم جانی نقصان یا مالی نقصانات کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی فوج نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے امریکا کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں کے تحت تہران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ یاد رہے کہ یونیورسٹی کے شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ کے ایک فیکلٹی رکن سعید شمکدری 23 مارچ کو اس وقت شہید ہو گئے تھے جب ان کے گھر کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مغرب میں کرج کے علاقے میں دھماکے ہوئے ہیں، کازنجان میں رہائشی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا، رہائشی عمارت پر فضائی حملے میں 5 شہری شہید، 7 زخمی ہوئے۔

ایران کے دارالحکومت تہران اور اصفہان پر شدید بمباری کی گئی، شہید محلاتی قبرستان، دارآباد، نوبنیاد میں دھماکے ہوئے، مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکے سنے گئے ہیں، شادآباد، شهریوراسٹریٹ، کلہدوز اسٹریٹ میں بھی دھماکے ہوئے۔

دریں اثنا، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب نئے حملے کی اطلاع دی ہے، بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب 10 دنوں میں تیسرا حملہ کیا گیا ہے، ایران کے مطابق آپریٹنگ ری ایکٹر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا نہ تابکاری ہوئی، اور حملے کے بعد پلانٹ کی صورت حال معمول کے مطابق ہے، تاہم آئی اے ای اے کے ڈی جی رافیل گروسی نے جوہری پلانٹ کے قریب کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ری ایکٹر کو نقصان پہنچا تو یہ بڑے تابکاری حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔