امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطرکی ثالثی میں ہونے والےمذاکرات میں دونوں جانب سے مؤقف میں لچک نہ آنے کے باعث اہم معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

رپورٹ کےمطابق ایران مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور امریکی بحری ناکہ بندی کے معاملے کو ترجیح دے رہا ہے، امریکا ایران سے جوہری پروگرام پر ٹھوس رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ایران کی جانب سےسابق مفاہمتی یادداشت کےفریم ورک پرواپس آنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنےکا مطالبہ بھی کیاگیاہے،تاہم دونوں ممالک کےمؤقف میں واضح فرق برقرارہے،جون کی مفاہمتی یادداشت میں آبنائےہرمزکھولنے،امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اورجوہری مذاکرات کا فریم ورک شامل تھا۔

ایگزیوس کےمطابق مذاکرات میں تعطل کےباعث دوبارہ فوجی کارروائی کاخدشہ بڑھ گیاہے، بعض امریکی حکام کا کہنا ہےکہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

ادھرقطردونوں ممالک کےدرمیان اختلافات ختم کرنے کےلیےسفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، قطری ثالثوں نےدوصفحات پرمشتمل سمجھوتے کی تجویز کےذریعےدونوں فریقوں کے مؤقف میں پل بنانے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کےسربراہ محسن رضائی نےمتحدہ عرب امارات کو خبردار کرتےہوئےکہانیتن یاہو کی میزبانی کے اچھےنتائج نہیں ہوں گے،جس طرح امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی نےامارات کوسکیورٹی فراہم نہیں کی،اسی طرح غزہ کےقصاب کی میزبانی بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی۔

محسن رضائی نےامارات پر زوردیا کہ وہ گزشتہ جنگ سے سبق سیکھے،جنگیں بھڑکانے سے گریز کرے اور ایرانی جزائر سے متعلق بے بنیاد دعوے جاری کرنا بند کرے۔