راچی(27 اپریل 2026): اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو 10.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا قوی امکان ہے، تاہم ملک میں مہنگائی کو مکمل طور پر قابو کرنے کے لیے مرکزی بینک شرح سود میں اضافے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ اجلاس کے دوران ملک میں مہنگائی کی صورتحال اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں ملک میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ معاشی محاذ پر مثبت خبر یہ ہے کہ مارچ 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 1.07 ارب ڈالر سرپلس رہا ہے، جبکہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ کا مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ بھی 174 ملین ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث شرح سود میں بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔ Post navigation وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ڈنر کا حملہ آور کول ایلن کون ہے؟ جنگیں چھیڑنے والے انسانیت کے پُرامن مستقبل کو چھین رہے ہیں، پوپ لیو