برسلز (20 جون 2026): اسرائیلی بستیوں سے درآمدات اور انتہا پسند وزیروں پر یورپ کی سطح پر پابندی کے لیے یورپی کمیشن پر دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم رکن ممالک میں اس سلسلے میں تاخیر پر 3 ماہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔

یورپی یونین کے رہنماؤں نے یورپی کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی آبادکاروں سے متعلق درآمدات پر پابندی کے لیے قانونی مسودے تیار کرے، کیوں کہ اس معاملے پر تین ماہ سے پیش رفت نہ ہونے کے باعث کئی رکن ممالک میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔

ای یو آبزرور کے مطابق فرانس، سویڈن، اسپین، بیلجیم اور آئرلینڈ سمیت کئی رکن ممالک کم از کم تین ماہ سے اسرائیلی آبادکاروں کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ برسلز میں جمعہ (19 جون) کو ہونے والے یورپی یونین سربراہی اجلاس میں غزہ پٹی میں انسانی صورت حال کو الم ناک قرار دیا گیا اور امدادی سامان کی ترسیل کا مطالبہ کیا گیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ رہنماؤں نے مغربی کنارے میں انتہا پسند اور پرتشدد آبادکاری سرگرمیوں پر پابندیوں، انتہا پسند اسرائیلی وزرا کے خلاف یورپی سطح پر پابندیوں اور اسرائیل کے تسلیم شدہ علاقے اور غیر قانونی بستیوں کے درمیان مزید واضح تفریق پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کیا، تاکہ تجارتی پالیسی کو بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ایک یورپی سفارت کار کے مطابق کمیشن کی جانب سے تجاویز پیش کرنے میں ہچکچاہٹ نے اجلاس میں ’’مایوسی‘‘ پیدا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقدامات تجویز کرنا کمیشن کی ذمہ داری ہے اور یہ تاخیر دراصل ایک سیاسی فیصلہ معلوم ہوتی ہے۔ سفارتکار نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے معمول کے طریقہ کار کے مطابق کسی تجویز کو پیش کرنے سے پہلے واضح اکثریت کا انتظار کرنا معمول کی بات نہیں۔

دوسری جانب جرمنی، آسٹریا، جمہوریہ چیک، ہنگری اور سلووینیا کی نئی حکومت اس اقدام کے حق میں نہیں ہیں، جب کہ کمیشن اس بات پر غور کرتا رہا کہ اس کے لیے اتفاق رائے درکار ہوگا یا اہل اکثریت کی منظوری، یعنی ایسی اکثریت جو کم از کم 65 فی صد یورپی یونین کی آبادی کی نمائندگی کرتی ہو۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم میہال مارٹن نے جمعہ کو کہا ’’ہم غیر قانونی بستیوں کے حوالے سے کمیشن کی تجویز کے منتظر ہیں۔ یورپی یونین کو واضح پیغام دینا ہوگا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔‘‘ یورپی سفارت کاروں کے اندازوں کے مطابق 10 سے 12 رکن ممالک اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی کے حامی ہیں، جب کہ چند دیگر ممالک بھی اس تجویز پر غور کے لیے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ مجموعی طور پر یورپی یونین مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے فلسطینیوں کے مقابلے میں تقریباً 15 گنا زیادہ درآمدات کرتی ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق اطلاعات ہیں کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوری 2023 سے اپریل 2026 کے دوران مغربی کنارے میں 116 فلسطینی برادریاں مکمل یا جزوی طور پر بے دخل ہوئیں، جبکہ کم از کم 5,910 افراد کو جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔

یورپی رہنماؤں نے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنھوں نے مئی میں غزہ کے لیے امدادی بحری قافلے کے 400 کارکنوں، جن میں یورپی یونین کے شہری بھی شامل تھے، کے ساتھ نامناسب سلوک کیا تھا۔ بن گویر نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ’’پورا لبنان جلنا چاہیے‘‘، یہ بیان لبنانی جنگجوؤں کے ہاتھوں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا۔ یورپی رہنماؤں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی کنٹرول کے منصوبے کو بھی مسترد کر دیا۔ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ’’یورپی یونین اسرائیل کے اس اعلان کو سختی سے مسترد کرتی ہے کہ وہ غزہ کے 70 فی صد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘

یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سعار نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس پر تنقید کی۔ سعار نے جمعرات کو کہا کہ وہ کالاس کے ساتھ ’’تمام رابطے منقطع‘‘ کر دیں گے، کیوں کہ ان کے بقول کالاس نے 21 مئی کو میکسیکو میں ایک بند کمرہ اجلاس کے دوران اسرائیل پر ’’نسلی امتیاز‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔