انسانی جسم کے نازک اور حساس اعضاء میں آنکھیں سرفہرست ہیں ان کی حفاظت کیلیے فضائی آلودگی سے بچاؤ، کم اسکرین ٹائم اور احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں بصورت دیگر آنکھوں کے امراض کا خدشہ ہے۔ فضائی آلودگی اور غیر صحت مند طرز زندگی کی وجہ سے آنکھوں کی خراب صحت ایک عام مسئلہ بن گیا ہے، بصارت کے مسائل بنیادی روزمرہ کے کاموں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، اس لیے آنکھوں کا بہت زیادہ خیال رکھنا لازمی اور ضروری ہے۔ بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نے انسانی صحت کے ساتھ ساتھ آنکھوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آلودہ فضا کے باعث جہاں آنکھوں کے امراض بڑھ رہے ہیں ساتھ ہی سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے، آنکھوں میں جلن، خارش، سرخی اور پانی آنے جیسے مسائل بھی عام ہوتے جا رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی کے ذرات آنکھوں میں داخل ہو کر نہ صرف تکلیف کا باعث بنتے ہیں بلکہ بروقت احتیاط نہ کرنے کی صورت میں یہ مسائل سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آنکھوں کے امراض سے بچاؤ کیلیے شہری اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی آنکھوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ آنکھوں کو صاف پانی سے دھونا چاہیے تاکہ گرد و غبار اور آلودہ ذرات کو دور کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بغیر ہاتھ دھوئے آنکھوں کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ گندے ہاتھوں کے جراثیم انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ آنکھوں کو رگڑنے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ اس سے خشکی اور سوزش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے آئی ڈراپس کا استعمال آنکھوں کو نمی فراہم کرتا ہے اور خشکی سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ باہر نکلتے وقت سن گلاسز کا استعمال نہایت مفید قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف مضر شعاعوں بلکہ دھول مٹی سے بھی آنکھوں کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر آنکھوں میں کسی قسم کی تکلیف محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔ ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ آنکھوں میں انفیکشن کی صورت میں موبائل فون اور اسکرین کا استعمال محدود رکھا جائے کیونکہ اس سے آنکھوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اگر آنکھوں میں تکلیف کا احساس ہو تو فوری طور پر اپنے معالج سے رجوع کریں۔ Post navigation دمہ (سانس کی بیماری) سے بچاؤ کیسے ممکن؟ ماہرین نے آسان حل بتا دیا ہنٹا وائرس کیا ہے؟