ٹھیکیدار محمد اقبال شیخ بلاول کے سامنے چوری کررہا ھے اور شہزادے کو معلوم نہیں۔ واھ بھائی واھ

لاڑکانہ کے شہر رتودیرو کے لیے شروع کی گئی واٹر سپلائی اسکیم کا آغاز 2022 میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد عوام کو صاف اور مسلسل پینے کا پانی فراہم کرنا تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل کی تاریخ جون 2025 مقرر کی گئی اور ابتدائی تخمینہ 653 ملین روپے رکھا گیا۔

حیرت انگیز طور پر مارچ 2025 میں متعلقہ محکمے کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اسکیم کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور صرف 1 فیصد کام باقی ہے۔ مگر اسی مرحلے پر منصوبے کو ریوائز کرتے ہوئے اس کی لاگت 653 ملین سے بڑھا کر 1681 ملین روپے کر دی گئی، جو کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔

یہ ثبوت اسی 2022 والی اسکیم کا ھے جو 65 کروڑ میں ننانوے فیصد مکمل تھی پھر اچانک اس کا بچے ہوئے ایک فیصد کا تخمینہ مزید ایک ارب بیس کروڑ روپے بڑھا دیا گیا۔

اس واٹر سپلائی اسکیم کے ٹھیکیدارمحمد اقبال شیخ نہ صرف منصوبے کی بینک گارنٹیز حاصل کر چکے ہیں بلکہ اب تک اس اسکیم پر ایک ھزار ملین روپے خرچ بھی دکھائے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود رواں مالی سال میں اس منصوبے کے لیے مزید 32 کروڑ روپے رکھ دیے گئے ہیں، حالانکہ کاغذوں میں منصوبہ تقریباً مکمل بتایا جا رہا تھا۔

اگر منصوبہ واقعی مکمل تھا تو لاگت میں یہ غیر معمولی اضافہ کیوں کیا گیا؟ اور اگر مکمل نہیں تھا تو عوام کو گمراہ کیوں کیا گیا؟