ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ بھر میں ایک وسیع مہم شروع کی ہے جس کا مقصد ایسے ہزاروں پناہ گزینوں کے مقدمات کو منسوخ کروانا ہے جو امیگریشن عدالتوں میں زیر التوا ہیں، اور ان مقدمات کی اصل حیثیت پر فیصلہ کیے بغیر ہی انہیں ختم کروانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ خبر کے مطابق، امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے وکلاء نے عدالتوں سے کہا ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کی درخواستوں کو مسترد کر دیں اور انہیں ان کے ہی ملکوں کی بجائے تیسرے ممالک جیسے گواتیمالا، ہونڈوراس، ایکواڈور، یا یوگنڈا بھیجنے کے لیے حکم دیں۔ یہ اقدام ٹرمپ حکومت کی وسیع امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے جس میں 2026 میں امیگریشن پر مزید سختی لائی جائے گی، اور ICE اور باڈر پولیس کے بجٹ میں بڑے پیمانے پر اضافہ بھی شامل ہے۔ تاہم، انتظامیہ نے اب تک اس رپورٹ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے، اور وائٹ ہاؤس یا متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ سب نیا مونیٹرنگ ڈیسک۔ Post navigation پی آئی اے کی نجاری اچھی بات ہے تاہم کچھ خدشات ہیں، وزیراعلیٰ سندھ متحدہ عرب امارات کے صدر پاکستان پہنچ گئے