چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے اعلیٰ افسران و انجینئرز کو شوکاز نوٹسز جاری

کراچی: (رپورٹ شوکت زرراري )حکومتِ سندھ کے سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ نے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ترقیاتی اسکیموں کے نام پر ہونے والی سنگین بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کا پردہ فاش کرتے ہوئے اعلیٰ افسران اور انجینئرز کو شوکاز نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ سرکاری دستاویزات کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی منظوری سے بی ایس 20، 19، 18 اور 17 کے افسران و انجینئرز کے خلاف سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1973 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔

نوٹسز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افسران نے اپنے تعیناتی دور میں بعض کالجوں کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا، کئی ترقیاتی کام کاغذوں میں مکمل دکھائے گئے جبکہ زمینی طور پر کام شروع ہی نہیں ہوا۔ بعض منصوبوں میں بغیر منظوری ایڈوانس رقوم جاری کی گئیں، جبکہ غیر قانونی طریقے سے ادائیگیاں کر کے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق مختلف اسکیموں بشمول تاخیربیا مکمل بند اسکیمز، جاری اسکیمز 2025-26، ترقیاتی اسکیمز اور ADP منصوبوں میں 12 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد کی الاٹمنٹ ظاہر کی گئی، جبکہ 8 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد کی ریلیز اور 5 ارب 11 کروڑ روپے کی مشکوک اخراجات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ دو ارب انیس کروڑ روپے ایڈوانس کی صورت میں غیر قانونی طور پر جاری کیے گئے۔

شوکاز نوٹسز ان افسران کو جاری کیے گئے ہیں جن میں چیف انجینئر، سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ انجینئرز اور حتیٰ کہ ریٹائرڈ افسران بھی شامل ہیں۔ بعض افسران پر ریٹائرمنٹ کے باوجود پنشن روکنے اور مزید ریکوری کی کارروائی کی بھی وارننگ دی گئی ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات سنگین بدعنوانی، نااہلی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتے ہیں۔ تمام متعلقہ افسران کو 14 دن کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورتِ دیگر یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں برطرفی، تنزلی، مالی ریکوری اور قانونی چارہ جوئی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں شفافیت قائم کرنے اور ترقیاتی فنڈز کی لوٹ مار کے خلاف بڑی کریک ڈاؤن مہم کا آغاز تصور کی جا رہی ہے، جس کے دائرہ کار کو مزید افسران تک بڑھائے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

اس کے علاوہ افسران نے اینٹی کرپشن کے ساتھ ملک کر تفتیش سے بچنے کے لیے ایک کارروائی کے لیے مبینہ درخواست بھی دے رکھی ھے جس پر اینٹی کرپشن نے بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔

اب چونکہ معاملہ چیف سیکریٹری تک پہنچا ھے تو ھوسکتا اینٹی کرپشن کی کارروائی فی الحال رک جائے اور افسران سے سخت تفتیش محکمہ خود کرے۔